LIVE
Loading Breaking News...

امیزون میں قدیم تہذیب کے آثار کی دریافت - نیکسورا نیوز

News Image
ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے امیزون کے گھنے جنگلات میں طویل عرصے سے گمشدہ قدیم تہذیب کے آثار دریافت کر لیے ہیں۔ نئے انکشافات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خطے میں ماضی میں ایک وسیع اور منظم انسانی آبادی آباد تھی۔
سائنسی اور تاریخی حلقوں میں ایک انتہائی سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق امیزون کے گھنے اور ناقابلِ تسخیر معلوم ہونے والے جنگلات کے نیچے طویل عرصے سے ایک گمشدہ تہذیب کے آثار پوشیدہ تھے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور محققین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ان تہہ در تہہ رازوں سے پردہ اٹھایا ہے، جو صدیوں سے جنگل کی ہری چادر کے نیچے دفن تھے۔ اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امیزون کا خطہ ماضی میں جتنا ویران اور غیر آباد سمجھا جاتا تھا، حقیقت میں ایسا نہیں تھا بلکہ وہاں ایک ترقی یافتہ اور وسیع انسانی تمدن پروان چڑھا تھا۔ محققین کے مطابق، اس نئی تحقیق میں جدید لیزر اسکیننگ اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے، جس کی مدد سے جنگل کی گھنی چھتری کے آر پار دیکھنا ممکن ہوا۔ اسکیننگ کے دوران زمین کے اندر بڑے پیمانے پر زرعی زمینوں، سڑکوں کے نظام، اور دفاعی ڈھانچوں کے نشانات ملے ہیں جو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہاں رہنے والے لوگ معاشرتی اور معاشی طور پر کافی منظم تھے۔ ان ڈھانچوں کی وسعت اور پیچیدگی اس امر کا ثبوت ہے کہ امیزون میں ایک طویل عرصے تک ایک مربوط اور فعال تہذیب موجود رہی ہے جو اپنے دور کے لحاظ سے کافی ترقی یافتہ تھی۔ اس دریافت کے بعد تاریخ دانوں اور ماہرینِ بشریات کو امیزون کے خطے کی تاریخ پر از سر نو غور کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ اب تک روایتی طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ امیزون کے ماحول اور دشوار گزار حالات کی وجہ سے وہاں کبھی کوئی بڑی اور پیچیدہ تہذیب قائم نہیں ہو سکی۔ تاہم، ان نئے شواہد نے اس پرانی فرضیہ کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ قدیم انسان انتہائی نامساعد حالات میں بھی بڑے پیمانے پر اپنے مسکن تعمیر کرنے اور ماحول کو اپنے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تو ابھی صرف ایک آغاز ہے اور آنے والے دنوں میں اس خطے میں مزید تحقیقات کی جائیں گی تاکہ اس گمشدہ تہذیب کے عروج و زوال، ان کے رہن سہن کے طریقوں اور ماحول کے ساتھ ان کے تعلقات کو مزید تفصیل سے سمجھا جا سکے۔ اس دریافت سے نہ صرف امیزون کی تاریخ کے اہم ابواب روشن ہوں گے بلکہ انسانی تاریخ کے مطالعے میں بھی ایک نیا باب کا اضافہ ہو گا، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زمین کے ہر کونے میں ماضی کی گہری کہانیاں اب بھی دریافت ہونے کی منتظر ہیں۔