World
نیپال میں سیلاب سے جاں بحق نامعلوم افراد کی عارضی قبروں میں تدفین
نیپال کے حکام نے سیلاب میں جاں بحق ہونے والے اور شناخت نہ ہونے والے افراد کو عارضی قبروں میں دفن کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس عمل کے بعد لواحقین اپنے پیاروں کی تلاش اور ان کے بارے میں معلومات کے لیے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
نیپال کے مختلف علاقوں میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے ایسے افراد جن کی لاشناختی نہیں ہو سکی، انہیں حکام کی جانب سے عارضی قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے۔ اس المناک صورتحال نے متاثرہ خاندانوں کو شدید ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا ہے جو اب بھی اپنے گمشدہ پیاروں کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور حکام سے حتمی جوابات کے منتظر ہیں۔ حالیہ مون سون بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نیپال کے کئی حصوں میں شدید تباہی مچائی ہے، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں لیکن بہت سے علاقوں میں رابطے بحال نہ ہونے کی وجہ سے لاشوں کی شناخت کا عمل انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، ضابطے کی کارروائی اور ڈی این اے کے نمونے محفوظ بنانے کے بعد لاوارث لاشوں کو عارضی طور پر سپردِ خاک کیا جا رہا ہے تاکہ وبائی امراض سے بچا جا سکے اور نظام کو بحال رکھا جا سکے۔ دوسری طرف، لاپتہ افراد کے لواحقین اسپتالوں اور امدادی کیمپوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے پیاروں کے زندہ یا مردہ ہونے کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں مل رہی، جس کی وجہ سے ان کا اضطراب دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ مقامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نامعلوم لاشوں کی شناخت کے عمل کو مزید شفاف اور تیز بنایا جائے تاکہ لواحقین کی اس بے چینی کا جلد از جلد خاتمہ ہو سکے اور وہ اپنے پیاروں کو آخری بار دیکھ سکیں۔