World
آبِ ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملے، عالمی توانائی کی سپلائی متاثر
آبِ ہرمز میں رات کی تاریکی میں سعودی تیل لے جانے والے دو ٹینکرز پر حملے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبِ ہرمز میں نصف شب کے دوران گزرنے والے دو آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ دونوں ٹینکرز مبینہ طور پر سعودی عرب کا تیل لے کر جا رہے تھے جب انہیں حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حساس سمندری گزرگاہ پر ہونے والے اس واقعے نے دنیا بھر میں توانائی کے ماہرین اور دفاعی تجزیہ کاروں کی توجہ مبذول کرا لی ہے کیونکہ یہ خطہ عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایک سپر ٹینکر کو آبِ ہرمز میں بارودی سرنگوں یا مائنز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سی ٹ্রেڈ میری ٹائم نیوز کے مطابق ایک اور سنোকور (Sinokor) ٹینکر پر بھی تین مرتبہ حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان حملوں کے بعد بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور جہاز رانی کمپنیوں نے اپنے روٹس کے حوالے سے ہنگامی مشاورت شروع کر دی ہے۔
آبِ ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل دنیا کے مختلف حصوں کو برآمد کیا جاتا ہے۔ اس نوعیت کے حملے نہ صرف بحری جہازوں اور عملے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ ان سے تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد خطے میں سیکیورٹی کے انتظامات اور دفاعی اسٹریٹجی کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
متعلقہ عالمی ادارے اور علاقائی قوتیں اس واقعے کی مکمل تحقیقات میں مصروف ہیں تاکہ اس کے پس پردہ محرکات اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے تا کہ مستقبل میں اس طرح کے سیکیورٹی خدشات سے نمٹا جا سکے۔