LIVE
Loading Breaking News...

الیخانڈر بیٹنکورٹ: وینزویلا کے تیل اور امریکی پالیسی کا نیا کھلاڑی

News Image
وینزویلا کے تیل کے تاجر الیخانڈر بیٹنکورٹ ماضی میں ہوگو چاویز کے اتحادی تھے جنہیں اب امریکی انتظامیہ میں اہم مقام حاصل ہو رہا ہے۔ واشنگٹن کی نئی پالیسی کے تحت پینٹاگون کو وینزویلا کے تیل کے ذخائر میں حصہ دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وینزویلا کے تیل کے تنازع اور عالمی سیاست کے پس منظر میں الیخانڈر بیٹنکورٹ کا نام ایک بار پھر دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک وقت تھا جب موصوف کو وینزویلا کے مرحوم صدر ہوگو چاویز کا قریبی اور حلیف سمجھا جاتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ حالات نے پلٹا کھایا اور اب وہ امریکی سیاسی اور توانائی کے حلقوں میں ایک اہم ترین کردار کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ حال ہی میں بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ سوئس حکام کی جانب سے ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے، لیکن واشنگٹن اور امریکی انتظامیہ کے پاس ان کے حوالے سے بالکل مختلف اور بڑے منصوبے موجود تھے۔ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ اقتدار کی پالیسیوں کے تحت وینزویلا کے تیل کے شعبے میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد پینٹاگون یعنی امریکی محکمہ دفاع کو وینزویلا کے وسیع و عریض تیل کے ذخائر میں براہ راست حصہ دار بنانا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے اس معاملے میں نمایاں پیش رفت کی گئی ہے، اور وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق وینزویلا کے تیل کے معاہدوں کے سلسلے میں طویل المدتی مراعات حاصل کرنے پر کام جاری ہے تاکہ امریکی توانائی کے مفادات کو طویل مدت تک محفوظ بنایا جا سکے۔ الیخانڈر بیٹنکورٹ جیسے شخصیات کا اس پورے پس منظر میں متحرک ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ تیل کی سیاست میں پرانے اتحادی نئی طاقتوں کے ساتھ کس طرح سمجھوتہ کرتے ہیں۔ ماضی میں چاویز کے دور میں فوائد حاصل کرنے والے کاروباری افراد اب امریکی پالیسی سازوں کے ساتھ مل کر وینزویلا کے توانائی کے انفراسٹرکچر میں رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پیش رفت سے لاطینی امریکہ اور امریکہ کے درمیان سفارتی اور معاشی تعلقات میں ایک نیا موڑ آ سکتا ہے، جہاں تیل ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔