World
ایران اور امریکہ کشیدگی: تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، تہران کا مذاکرات پر زور
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ عبوری سمجھوتے کی پاسداری کرے جس کا تہران بھی خیرمقدم کرے گا۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت ردعمل کے انتباہ کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تہران نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ تمام فریقین جون کے عبوری سمجھوتے کی طرف واپس آئیں تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکہ کو ایک بار پھر مصالحتی پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر واشنگٹن اپنے عبوری وعدوں کا احترام کرے گا تو تہران بھی اس کا مثبت اور متوازن جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ اور تناؤ کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہے، اور تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نومبر میں امریکی صدارتی انتخابات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات اور ایران کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر کڑی تنقید اور ممکنہ سخت اقدامات کے انتباہ کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کار خطے میں کسی بھی بڑی عسکری مداخلت یا بحران کے پیش نظر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ امریکہ کو بات چیت اور طاقت کے استعمال کے درمیان فرق کو سمجھنا ہوگا کیونکہ دباؤ کے ذریعے مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ خطے میں امن کا خواہاں ہے لیکن کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک اور بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔