World
ایران پر حملے اور پابندیاں: ایس سی او بشکیک اجلاس کی اہم تفصیلات
بشکیک میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں عالمی رہنماؤں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی ہے۔ اجلاس کے دوران تہران کی جانب سے کثیر الجہتی نظام اور ایس سی او پارلیمانی اسمبلی کے قیام کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
بشکیک میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں عالمی رہنماؤں نے ایران کے خلاف ہونے والی حالیہ جارحیت اور پابندیوں پر کڑے الفاظ میں تنقید کی ہے۔ اجلاس کے دوران شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے یکطرفہ اقدامات اور اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ رہنماؤں نے خاص طور پر ایران کے خلاف کارروائیوں کو مسترد کرتے ہوئے خطے میں مکالمے اور سفارت کاری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اجلاس کے دوران ایرانی نمائندوں نے دنیا میں کثیر الجہتی نظام اور ایک کثیر قطبی دنیا کی تشکیل پر زور دیا، جو عالمی سیاست میں توازن لانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ عالمی امور میں کسی ایک طاقت کی اجارہ داری ختم ہونی چاہیے اور تمام ممالک کو یکساں ترقی کے مواقع ملنے چاہئیں تاکہ منصفانہ بین الاقوامی نظام قائم ہو سکے۔ اس سربراہی اجلاس میں ایران کی مؤثر موجودگی کو ذرائع ابلاغ اور مبصرین کی جانب سے بھی سراہا گیا، جو خطے میں تہران کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔ اجلاس کی کوریج کرنے والے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق، ایس سی او کے پلیٹ فارم سے ایران کی شرکت نے تنظیم کے اندرونی تعاون کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اس موقع پر ایران کی جانب سے ایک اور اہم تجویز بھی پیش کی گئی جس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت ایک باقاعدہ 'ایس سی او پارلیمانی اسمبلی' کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ اس تجویز کا مقصد تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان قانون ساز اداروں کے رابطوں کو فروغ دینا اور عوامی سطح پر روابط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پارلیمانی اسمبلی کے قیام سے رکن ممالک کے درمیان پالیسی سازی میں مزید ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ اجلاس کے اختتام پر تمام شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور تجارتی روابط کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔ ایران کے خلاف جاری تنازعات کے تناظر میں اس اجلاس کو خطے میں نئی سفارتی صف بندیوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔