World
ہسپانوی انکلیو سیوتا میں جنسی زیادتیوں میں خطرناک اضافہ
ہسپانوی علاقے سیوتا میں تارکین وطن کے مسائل اور سکیورٹی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ استغاثہ کے مطابق وہاں جنسی زیادتیوں کے واقعات تقریباً روزانہ کی بنیاد پر پیش آ رہے ہیں۔
ہسپانوی انکلیو سیوتا میں تارکین وطن کے بحران کے دوران صورتحال انتہائی سنگین رخ اختیار کر گئی ہے۔ علاقائی استغاثہ کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق سیوتا میں جنسی زیادتی کے واقعات تقریباً روزانہ کا معمول بن چکے ہیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے۔ حکام اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق زیادہ تر تارکین وطن نے تو اپنے آبائی علاقوں یا ہمسایہ ملک مراکش کی طرف واپسی کا رُخ کر لیا ہے، تاہم اب بھی اندازاً پانچ ہزار کے قریب افراد اس ہسپانوی انکلیو میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان افراد کی بڑی تعداد بنیادی سہولیات سے محروم ہے اور وہاں پر امن و امان کی صورتحال بھی مسلسل زوال پذیر ہے، جس کی وجہ سے جرائم کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ افراد بالخصوص خواتین کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ہسپانوی حکومت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ سیوتا میں انتظامی اور حفاظتی ڈھانچے کو بہتر بنائے تاکہ اس قسم کے گھناؤنے جرائم کا تدارک کیا جا سکے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔