LIVE
Loading Breaking News...

نریندر مودی کی پیوٹن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل اور اس کے اثرات

News Image
भारतीय وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے سامنے عوامی سطح پر امن کی اپیل نے عالمی سفارتی حلقوں کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں نے اس بات کا تجزیہ کیا ہے کہ نئی دہلی اور ماسکو کے تعلقات کے تناظر میں اس اپیل کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ روس اور صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کے دوران کی جانے والی عوامی امن اپیل نے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ روایتی طور پر روس کے قریبی اتحادی مودی نے کس طرح اور کن محرکات کے تحت اس تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا۔ یہ ایک ایسا موقع تھا جہاں دوطرفہ تعلقات کی گرم جوشی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی امن کے حوالے سے بھی سنجیدہ گفتگو کی گئی۔ نئی دہلی اور ماسکو کے درمیان تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں اور بھارت اپنی دفاعی اور توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک روس پر منحصر ہے۔ تاہم مغرب کے ساتھ بھارت کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے دباؤ کے پیش نظر نریندر مودی کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ بی بی سی کے نئی دہلی اور ماسکو میں موجود نامہ نگاروں نے اس تمام صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس کھلی اپیل کے پیچھے کیا سفارتی حکمت عملی کارفرما تھی۔ دوسری طرف، سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھارتی وزیراعظم کی اس بات پر کان دھریں گے؟ روس کا موقف اپنی جگہ قائم ہے اور یوکرین میں اس کی عسکری کارروائیاں جاری ہیں۔ ماسکو کی قیادت اس تنازع کے حوالے سے اپنے اسٹریٹجک اہداف کو ہدفِ اول سمجھتی ہے، اس لیے کسی بھی فوری یا بڑی پالیسی تبدیلی کی توقع کم ہی کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود، بین الاقوامی سفارت کاری میں اس قسم کے بیانات علامتی طور پر بہت وزنی ہوتے ہیں اور طویل مدتی امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ بھارت کی یہ متوازن سفارت کاری عالمی سطح پر جنگ کے خاتمے کے لیے کس حد تک کارگر ثابت ہوتی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔