World
مشرقی بیت المقدس اسکول ہڑتال اور تعلیمی بحران
مشرقی بیت المقدس کے اسکولوں میں اسرائیلی نصاب کے زبردستی نفاذ اور اساتذہ پر پابندی کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی ہے۔ اس اچانک بحران کی وجہ سے نئے تعلیمی سال کا آغاز شدید تعطل اور افراتفری کا شکار ہو گیا ہے۔
مشرقی بیت المقدس کے تعلیمی اداروں میں اس وقت شدید بحران پیدا ہو گیا ہے جب مقامی اسکولوں نے اسرائیلی حکام کی جانب سے نصاب کے زبردستی نفاذ اور اساتذہ پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے خلاف مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ اس اقدام کے نتیجے میں نئے تعلیمی سال کا آغاز شدید افراتفری اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے، جس سے ہزاروں طلباء کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے فلسطینی علاقوں کے اسکولوں پر ایک مخصوص نصاب مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جسے مقامی آبادی اور تعلیمی ماہرین اپنے تشخص اور ثقافت پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کئی اساتذہ کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے اور نئے اجازت نامے جاری نہ کرنے کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔ والدین اور اساتذہ تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسکولوں کی اس ہڑتال کے بعد مشرقی بیت المقدس میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ طلباء اور والدین نے سڑکوں پر آ کر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں میں اس سیاسی مداخلت کو رکوائے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس تنازع کو جلد حل نہ کیا گیا تو اس کے طویل مدتی اور تباہ کن اثرات بچوں کی تعلیم پر مرتب ہوں گے، کیونکہ تعلیمی سال پہلے ہی شدید بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔