World
امریکہ اور روس تعلقات: کیا ٹرمپ روس سے دوبارہ مذاکرات کے خواہاں ہیں؟
امریکی سی آئی اے کے سربراہ کے دورہ ماسکو اور روسی وزیرِ خزانہ کی امریکہ میں جی ٹوئنٹی اجلاس میں شرکت نے دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ بات چیت کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین اس پیش رفت کے اسباب اور عالمی سیاست پر اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
عالمی سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر یہ سوال شدت کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا امریکہ اور روس کے تعلقات میں کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے چند اہم سفارتی اشاروں نے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ایک بار پھر واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان قربت بڑھ رہی ہے اور اگر ایسا ہے تو اس کی اصل وجوہات کیا ہو سکتی ہیں۔ ان سفارتی حرکیات میں سی آئی اے کے سربراہ کا دورہ ماسکو اور روسی وزیرِ خزانہ کی امریکہ میں منعقد ہونے والے جی ٹوئنٹی کے اجلاس میں شرکت کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ اور روس کے مابین تعلقات گزشتہ کئی سالوں سے شدید تناؤ کا شکار چلے آ رہے ہیں، بالخصوص یوکرین تنازع کے بعد سے دونوں بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑی تھیں۔ تاہم، حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والی کچھ اہم ملاقاتیں اور پسِ پردہ رابطے اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے نئے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ سی آئی اے کے اعلیٰ عہدیدار کا دورہ روس اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے، جہاں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ کسی بھی غلط فہمی یا براہ راست تصادم کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
دوسری جانب، روسی وزیرِ خزانہ کی امریکی سرزمین پر ہونے والے جی ٹوئنٹی اجلاس میں شرکت نے بھی مالی اور سفارتی حلقوں کی توجہ مبذول کروائی ہے۔ عالمی مالیاتی پلیٹ فارمز پر روس کی نمائندگی اور امریکی حکام کے ساتھ ممکنہ روابط اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اقتصادی سطح پر بھی کچھ امور کے حل کے لیے رابطے ناگزیر ہو چکے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ عالمی معیشت اور توانائی کے بحران کے پیشِ نظر دونوں ممالک کے لیے مکمل لاتعلقی ممکن نہیں رہی، اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایک بار پھر دونوں فریقین سفارتی دروازے کھلے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان تمام پیش رفت کے باوجود، یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ رابطے محض محدود نوعیت کے ہیں یا یہ کسی بڑی پالیسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ماضی میں بھی غیر روایتی رویہ دیکھنے میں آیا ہے، اور موجودہ حالات میں بھی مبصرین کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا آنے والے دنوں میں واشنگٹن کی ماسکو پالیسی میں کوئی واضح نرمی یا نیا موڑ آئے گا۔