World
یورپی یونین اسرائیل بستی تجارت پابندی آئرلینڈ
آئرلینڈ کے وزیر دفاع نے یورپی یونین کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کرنے کے لیے مزید عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں منصفانہ امن کے قیام کے لیے عالمی قوانین پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔
آئرلینڈ کے وزیر دفاع نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے قائم کی جانے والی غیر قانونی بستیوں کے ساتھ جاری تجارتی تعلقات کو ختم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کی پاسداری اور خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے یہ قدم اٹھانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ آئرش وزیر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور اس کے تنازعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اپنے ایک حالیہ بیان میں انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو اس معاملے پر خاموشی توڑتے ہوئے مشترکہ پالیسی اپنانی چاہیے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی تعمیر اور ان کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں، جنہیں مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آئرلینڈ نے ہمیشہ سے اس مؤقف کی حمایت کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات کا حل صرف دو ریاستی حل اور منصفانہ پالیسیوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
یورپی یونین کے اندر اس معاملے پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، تاہم آئرلینڈ اور کچھ دیگر ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تجارتی پابندیوں کے ذریعے دباؤ بڑھایا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یورپی یونین اس حوالے سے کوئی سخت لائحہ عمل تیار کرتی ہے تو اس سے عالمی سفارتی اور تجارتی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ آئرش حکومت چاہتی ہے کہ تمام یورپی شراکت دار مل کر ایک ایسا موثر نظام بنائیں جو غیر قانونی اقدامات کے خلاف عملی رکاوٹ بن سکے۔