World
اقوام متحدہ کی ماحولیاتی وارننگ، پیسفک آئی لینڈز فورم پر چین تائیوان کشیدگی کا اثر
اقوام متحدہ نے پلاؤ میں پیسفک آئی لینڈز فورم کے دوران عالمی ماحولیاتی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس اہم اجلاس پر چین اور تائیوان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ نے پلاؤ میں منعقد ہونے والے پیسفک آئی لینڈز فورم کے موقع پر عالمی ماحولیاتی بحران کے حوالے سے ایک بار پھر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ دنیا بالخصوص بحر الکاہل کے چھوٹے جزائر کو موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سمندر کی سطح میں ہونے والا اضافہ ان جزائر کے وجود کے لیے خطرہ بن چکا ہے اور عالمی برادری کو اس مسئلے پر سیاست سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہوگا۔
تاہم، اس پریس کانفرنس اور اہم ماحولیاتی فورم کے دوران تمام تر توجہ کا مرکز چین اور تائیوان کے درمیان جاری سیاسی اور سفارتی کشیدگی بن گئی۔ فورم کے اجلاس میں خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی رقابت اور سکیورٹی خدشات پر بھی کھل کر بحث کی گئی۔ مبصرین کے مطابق، چین اور تائیوان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ماحولیاتی تبدیلی جیسے اہم ترین اور زندگی موت کے مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے، جس پر فورم کے شرکاء نے بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
پیسفک آئی لینڈز فورم کے رہنماؤں نے زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس خطے کا سب سے بڑا سکیورٹی خطرہ ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے تمام بڑی عالمی طاقتوں کو تعاون کرنا چاہیے۔ چھوٹے جزائر پر مشتمل ممالک کا مؤقف ہے کہ اگر عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں ان کا نام و نشان مٹ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ باہمی تنازعات کو ایک طرف رکھ کر کرہ ارض کو بچانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔