LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کی دی ہیگ عدالت میں سندھ طاس معاہدے پر بڑی کامیابی

News Image
مستقل ثالثی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے لیے بدستور پابندِ قانون اور مؤثر ہے۔ تاہم، بھارت نے عدالت کے ان فیصلوں کو مسترد کر دیا ہے جس سے تناؤ برقرار ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو آبی سفارت کاری میں ایک بڑی کامیابی اس وقت ملی جب دی ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا کہ یہ تاریخی معاہدہ دونوں فریقین کے لیے بدستور پابندِ قانون اور مؤثر حیثیت رکھتا ہے۔ عدالت کی جانب سے یہ توثیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان آبی وسائل کے منصفانہ استعمال اور تنازعات کے حل کے حوالے سے طویل عرصے سے کشیدگی چلی آ رہی تھی۔ پاکستان نے اس عدالتی موقف کو اپنے مؤقف کی فتح قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ آبی تنازعات کو بین الاقوامی معاہدوں کے فریم ورک کے اندر ہی حل کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب، بھارت نے مستقل ثالثی عدالت کے ان تازہ ترین فیصلوں اور تشریحات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ نئی دہلی کا اصرار ہے کہ عدالت کو اس معاملے میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے، جس کی وجہ سے خطے میں پانی کے دیرینہ تنازع کے حل کے حوالے سے خدشات اور بھارتی دھمکیاں بدستور برقرار ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ قانونی محاذ پر پاکستان نے ایک اہم معرکہ سر کر لیا ہے، تاہم زمینی حقائق اور بھارتی رویے کے پیش نظر آنے والے دنوں میں سفارتی اور قانونی سطح پر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین اس آبی چپقلش سے خطے کی سلامتی اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، کیونکہ زراعت اور پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے یہ معاہدہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ماہرینِ قانون اور آبی امور کے بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ ثالثی عدالت کے اس فیصلے سے پاکستان کو بین الاقوامی فورمز پر ایک مضبوط قانونی برتری حاصل ہو گئی ہے، جس کا مستقبل میں سفارتی سطح پر بھرپور استعمال کیا جا سکتا ہے۔