Pakistan
پاکستان میں فیمسائڈ ایمرجسی کا مطالبہ اور خواتین کے حقوق
پاکستانی میڈیا پروفیشنل ہینا جاوید کے ہلاکت خیز قتل کے بعد ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے فوری طور پر فیمسائڈ ایمرجسی نافذ کی جائے۔
اسلام آباد: پاکستانی میڈیا پروفیشنل ہینا جاوید کے بہیمانہ قتل کے بعد ملک بھر میں خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات پر ایک بار پھر شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں خواتین کے قتل کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے فوری طور پر 'فیمسائڈ ایمرجسی' (عورت کشی کی ہنگامی حالت) نافذ کی جائے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سنگین جرائم کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات اور عدلیہ کی سطح پر فوری انصاف کی فراہمی ناگزیر ہو چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق ہینا جاوید کا قتل صرف ایک انفرادی واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ اس وسیع تر اور خطرناک رجحان کا تسلسل ہے جو بدقسمتی سے معاشرے میں جڑ پکڑتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں آئے روز گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل اور صنفی بنیادوں پر ہونے والے مظالم کے اعداد و شمار میں تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتی چلی آ رہی ہیں کہ مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے لیے موجودہ نظام ناکافی ثابت ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے مجرموں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں اور اس نوعیت کے جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر، سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو محض بیانات اور رسمی مذمت سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ فیمسائڈ ایمرجسی کے نفاذ کا بنیادی مقصد ریاست کی تمام مشینری، پولیس فورس اور قانونی اداروں کو اس بات کا پابند بنانا ہے کہ وہ خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد اور قتل کے مقدمات کو انتہائی ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ملک بھر میں ایک ایسی جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو خواتین کو تحفظ فراہم کر سکے اور اس گھناؤنے چکر کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو۔