World
دمشق کا پرانا شہر 24 گھنٹے گاڑیوں سے خالی، شہریوں کا پرسکون ماحول
شام کے دارالحکومت دمشق کے تاریخی پرانے شہر کو چوبیس گھنٹوں کے لیے گاڑیوں کی آمدورفت سے بالکل پاک کر دیا گیا۔ اس انوکھے اقدام سے مقامی رہائشیوں کو ٹریفک کے شور اور دھوئیں کے بغیر سڑکوں پر پیدل چلنے کا نادر موقع ملا۔
شام کے تاریخی دارالحکومت دمشق کے پرانے شہر میں زندگی نے ایک نیا اور پرسکون رخ موڑ لیا جب اس کے قدیم اور تاریخی حصوں کو پورے چوبیس گھنٹوں کے لیے گاڑیوں سے مکمل طور پر خالی کرا لیا گیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد اس تاریخی علاقے کے ماحول کو بہتر بنانا اور شہریوں کو ٹریفک کے ہنگاموں سے دور کچھ پرسکون لمحے فراہم کرنا تھا۔ اس پابندی کے نتیجے میں دمشق کے باسیوں اور سیاحوں کو صدیوں پرانی گلیوں میں بلا خوف و خطر اور بغیر کسی ٹریفک کے دباؤ کے پیدل چلنے کا ایک انتہائی نادر اور خوشگوار موقع میسر آیا۔
انتظامیہ کے اس فیصلے کے بعد روایتی طور پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ہجوم میں گھر رہنے والی تنگ گلیوں میں ایک عجب سکون اور خاموشی چھا گئی۔ رہائشیوں نے اس اقدام کو بے حد سراہا کیونکہ عام دنوں میں اس قدیم علاقے میں ٹریفک کی وجہ سے پیدل चलना بھی کافی مشکل اور محنت طلب کام بن جاتا ہے۔ اس چوبیس گھنٹے کے وقفے کے دوران بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں نے بڑی تعداد میں باہر نکل کر ان تاریخی راستوں کا پیدل سفر کیا اور اس قدرتی اور پرسکون ماحول سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوئے۔
ماہرینِ ماحولیات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے بھی دمشق انتظامیہ کے اس قدم کی پرزور تحسین کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف تاریخی ورثے پر بوجھ کم ہوتا ہے بلکہ فضائی آلودگی میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔ شہری حلقوں کی جانب سے اب یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ اس طرح کے کار فری دن مستقبل میں بھی وقتاً فوقتاً منعقد کیے جانے چاہئیں تاکہ اس تاریخی شہر کی اصل خوبصورتی اور اس کی قدیم ثقافتی شناخت کو طویل مدت کے لیے محفوظ بنایا جا سکے اور عوام کو صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔