LIVE
Loading Breaking News...

عمران خان اور بشریٰ بیبی کی قید سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل حکام کو سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بیبی کو تنہائی میں قید نہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ان کی ملاقاتوں اور سہولیات سے متعلق دیگر امور پر بھی اہم ہدایات جاری کی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں اڈیالہ جیل کے حکام کو ہدایت دی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بیبی کو تنہائی میں قید نہ رکھا جائے۔ عدالت کی طرف سے یہ حکم دونوں کی قید کے حالات کو بہتر بنانے اور ضابطے کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس سے سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ دوسری جانب، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید دیگر قیدیوں کی جانب سے دائر کی جانے والی تین مختلف درخواستیں مسترد کر دیں۔ ان درخواستوں میں پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کرانے اور بیرون ملک مقبوضہ رشتہ داروں سے ٹیلی فونک یا دیگر ذرائع سے رابطے کی استدعا کی گئی تھی، جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے جیل مینوئل اور قانون کے مطابق کارروائی کو برقرار رکھا ہے۔ عدالتی احکامات کے بعد توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ جیل انتظامیہ عمران خان اور بشریٰ بیبی کے ساتھ طے شدہ اصولوں کے مطابق برتاؤ کرے گی اور انہیں بروقت ملاقاتوں اور دیگر بنیادی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ وکلاء اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اس فیصلے کو سراہا گیا ہے جبکہ قانونی حلقوں میں بھی اس پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ عدالتی احکامات نے ملکی سیاسی منظر نامے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں سیاسی قیدیوں کے حقوق اور جیل کے اندر ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر مسلسل بحث جاری ہے۔ عدالت کا یہ واضح مؤقف قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔