LIVE
Loading Breaking News...

جڑواں شہروں میں شدید بارش، نش نشیبی علاقے زیر آب اور راول ڈیم کے اسپل ویز کھل گئے

News Image
اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلا دھار بارش کے بعد نش نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں اور پانی کی سطح بلند ہونے پر راول ڈیم کے اسپل ویز بھی کھول دیے گئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک کے مختلف حصوں میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت جڑواں شہروں میں موسلا دھار بارش نے نظام زندگی کو وقتی طور پر متاثر کر دیا ہے جس کے نتیجے میں کئی نش نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ بارش کا یہ سلسلہ گزشتہ روز شروع ہوا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دونوں شہروں کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی اور شہریوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نپٹا جا سکے۔ بارش کے بعد راول ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی، جس کے باعث ڈیم کے اسپل ویز احتیاطی تدابیر کے طور پر کھول دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق ڈیم میں پانی کی سطح 1,751 فٹ تک پہنچ گئی تھی، جس کے بعد پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔ مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ ڈیم کے نچلے حصوں میں رہنے والے لوگوں کو کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے اور ضرورت پڑنے پر فوری امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔ دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بدھ کے روز بھی بالائی علاقوں اور اسلام آباد میں مزید بارش اور گرج چمک کے ساتھ طوفان کی توقع ہے۔ حکام نے شہریوں اور مسافروں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور برساتی نالوں کے قریب جانے سے بچنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ وفاقی دارالحکومت میں بارش کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے سیاسی شخصیات اور متعلقہ حکام نے بھی متحرک کردار ادا کیا۔ حکام نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں جاری نکاسی آب کے کاموں کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ پانی کی فوری نکاسی کو یقینی بنائیں اور متاثرہ شہریوں کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کریں۔ حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کی مشکلات کو کم سے کم کیا جا سکے۔