World
شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس: 13 اہم معاہدے منظور
کرغزستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے 26ویں سربراہی اجلاس کے دوران تیرہ اہم اور تاریخی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں میں خطے میں دہشت گردی کے خاتمے، موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے اور ڈیجیٹل تعاون کو فروغ دینے جیسے امور شامل ہیں۔
کرغزستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ممبر ممالک کے سربراہان مملکت کونسل کے 26ویں اجلاس اور "ایس سی او پلس" اجلاس نے خطے میں باہمی تعاون کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے۔ اس اہم ترین سفارتی اجتماع کے دوران مجموعی طور پر تیرہ اہم اسٹریٹجک معاہدوں اور اعلامیوں کی منظوری دی گئی ہے، جن کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان معاشی، سیکیورٹی اور تکنیکی روابط کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اجلاس کے فیصلوں میں خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔
طے پانے والے ان تیرہ اہم معاہدوں میں انسداد دہشت گردی کے شعبے میں تعاون کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ تمام رکن ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان قریبی رابطہ ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ دور کے سب سے بڑے خطرے یعنی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، ماحولیاتی تحفظ اور سبز توانائی کے فروغ کے لیے بھی عملی اقدامات کا خاکہ تیار کیا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔
معاہدوں کا ایک اور اہم اور نمایاں پہلو ڈیجیٹل تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ ہے۔ رکن ملکوں نے ڈیجیٹل اکانومی، ای گورننس اور سائبر سیکیورٹی کے میدان میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر مختلف رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرکے ہی پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق، ان معاہدوں سے تنظیم کی ادارہ جاتی اصلاحات میں بھی مدد ملے گی اور یہ فیصلہ کن اقدام خطے کے تمام ممالک کے لیے خوشحالی کے نئے دروازے کھولے گا۔