LIVE
Loading Breaking News...

جاپانی اسٹاک مارکیٹ میں سیکٹر روٹیشن اور ٹیکنالوجی شیئرز میں گراوٹ

News Image
جاپانی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا رجحان ٹیکنالوجی سیکٹر سے نکل کر وسائل اور ریجنل بینکوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ نکی انڈیکس میں چپس بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز گرنے کے باوجود بعض دیگر شعبوں میں بہتری دیکھی گئی۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک اہم تبدیلی کے دوران جاپانی حصص بازار میں سیکٹر روٹیشن کا عمل شروع ہو گیا ہے، جہاں ٹیکنالوجی کے شیئرز میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے تکنیکی شعبے کے حصص فروخت کیے جا رہے ہیں جبکہ فنڈز کا رخ دیگر روایتی شعبوں کی طرف ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی شرح سود کے باعث سرمائے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جس نے جاپانی حصص مارکیٹ کے مجموعی رجحان کو متاثر کیا ہے۔ نکی انڈیکس کو خاص طور پر سیمی کنڈکٹر اور چپ بنانے والی کمپنیوں کے شیئرز میں ہونے والی کمی کی وجہ سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے مارکیٹ کے ایک بڑے حصے میں مندی دیکھی گئی۔ تاہم، اس مجموعی گراوٹ کے باوجود مارکیٹ کے کچھ حصوں میں مثبت رجحانات بھی دیکھنے میں آئے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں توانائی اور وسائل سے وابستہ کمپنیوں جیسے کہ آئی این پی ای ایکس (INPEX) کے شیئرز میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، کلینیکل ٹرائلز میں نمایاں پیش رفت کے بعد ڈیلٹا فلائی کے حصص میں زبردست تیزی آئی ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرامید خبر ثابت ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اب زیادہ محتاط حکمت عملی اپنا رہے ہیں اور رسک فیکٹر کو کم کرنے کے لیے اپنے پورٹ فولیو میں ردوبدل کر رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی شرح سود اور میکرو اکنامک دباؤ کی وجہ سے جاپانی مالیاتی منڈی میں ریجنل بینکوں اور قدرتی وسائل سے متعلقہ سیکٹرز کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جب تک عالمی سطح پر شرح سود اور جغرافیائی سیاسی صورتحال واضح نہیں ہوتی، جاپانی مارکیٹ میں اس قسم کے اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ سرمایہ کار موجودہ حالات میں تکنیکی کمپنیوں کے مقابلے میں ان شعبوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں جو مستحکم منافع دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔