World
جرمنی کا الزام: لیپزگ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے میں روس ملوث
جرمن حکام کے مطابق گزشتہ ماہ لیپزگ ایئرپورٹ پر یوکرین کے کارگو طیاروں کے قریب ایک دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون برآمد ہوا تھا۔ اس سنسنی خیز واقعے کے بعد جرمن سکیورٹی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس کے پیچھے روسی ہاتھ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
برلن (نیکسٹورا نیوز اردو) جرمن حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے اہم لیپزگ ایئرپورٹ پر پیش آنے والے ایک سکیورٹی واقعے کے پیچھے روس کا ہاتھ کارفرما تھا۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ چار اگست کو پیش آیا جب ایئرپورٹ کے احاطے میں یوکرین کے کارگو طیاروں کے بالکل قریب ایک ایسا ڈرون برآمد کیا گیا جو خطرناک دھماکہ خیز مواد سے لیس تھا۔ اس واقعے نے جرمن ایوی ایشن اور انٹیلی جنس حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے کیونکہ یہ تنصیبات کی سکیورٹی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے بعد جرمن سکیورٹی اداروں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ مبینہ تخریب کاری کی کوشش تھی جس کا مقصد یوکرین کے لیے جانے والی یا وہاں سے آنے والی رسد اور کارگو پروازوں کو نشانہ بنانا یا انہیں سبوتاژ کرنا تھا۔ اگرچہ ابتدائی طور پر اس واقعے کو خفیہ رکھا گیا تھا تاکہ تحقیقات میں کوئی رکاوٹ نہ آئے، تاہم اب جرمن حکام نے اس کی سنگینی کے پیش نظر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کے پیچھے روسی عناصر یا ان کے کارندے ملوث ہو سکتے ہیں۔
یورپی یونین اور ناٹو کے اراکین پہلے ہی اس قسم کے ہائبرڈ خطرات اور ممکنہ تخریب کاری کے خلاف الرٹ پر ہیں۔ حالیہ مہینوں میں پورے یورپ میں اہم بنیادی ڈھانچے، ریلوے نیٹ ورکس اور ہوائی اڈوں کے گرد مشکوک سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جن کے بارے میں مغربی ممالک اکثر روس پر انگشت نمائی کرتے ہیں۔ اس تازہ ترین واقعے کے بعد جرمنی میں ہوائی اڈوں کی سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور حساس علاقوں میں گشت بڑھا دیا گیا ہے۔
جرمن حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تمام ممکنہ زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس واقعے کے سفارتی اثرات بھی مرتب ہونے کا امکان ہے کیونکہ جرمنی پہلے ہی یوکرین کی حمایت میں پیش پیش ہے اور اس قسم کے واقعات دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اس واقعے کو ایک خطرناک پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں شہری ہوابازی کو نشانہ بنایا گیا۔