World
نیپال سیلاب: سرنگ میں کام کرنے والے مزدور کا ہوشربا انکشاف
نیپال میں سیلابی ریلوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ایک سرنگ میں کام کرنے والے مزدور نے بی بی سی کو بتایا کہ کس طرح اس نے اپنی جان بچانے کے لیے بیس منٹ تک تیز رفتار پانی کے ریلے کے خلاف دوڑ لگائی۔
نیپال میں حالیہ طوفانی بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے پورے ملک میں کہرام مچا رکھا ہے، جہاں قدرتی آفت کے باعث ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اس سنگین صورتحال کے درمیان ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام کرنے والے کارکنوں کو بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشنز تاحال جاری ہیں، تاکہ ملبے اور پانی میں پھنسے ہوئے افراد تک رسائی حاصل کی جا سکے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اس خوفناک آفت کے دوران ایک سرنگ میں کام کرنے والے مزدور نے اپنی جان بچانے کی دردناک کہانی سنائی ہے جو دل دہلا دینے والی ہے۔
متاثرہ ورکر نے بتایا کہ جب سیلابی ریلے نے اچانک ہائیڈرو پاور سائٹ کو اپنی لپیٹ میں لیا تو خوف و ہراس پھیل گیا۔ پانی اتنی تیزی سے سرنگ کے اندر داخل ہوا کہ کسی کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔ اس مزدور نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ سیلاب نے بیس منٹ تک اس کا پیچھا کیا اور وہ اپنی جان بچانے کے لیے سرنگ کے اندر بھاگتا رہا۔ پانی کا یہ ریلہ اس قدر طاقتور اور تیز تھا کہ ذرا سی غفلت موت کا پروانہ بن سکتی تھی، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور آخرکار خود کو محفوظ مقام پر پہنچانے میں کامیاب ہو گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ سڑکیں پانی میں ڈوب چکی ہیں اور مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
بین الاقوامی اداروں اور پڑوسی ممالک کی جانب سے بھی نیپال کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور امدادی سامان بھیجنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ڈاکٹروں اور ریسکیو ماہرین کی ٹیمیں میدان میں اتاری جا چکی ہیں تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کا کام جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تباہی کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے اور نیپال کو اس بحران سے نکلنے کے لیے طویل المدتی بحالی کے منصوبوں کی ضرورت ہوگی۔