World
فرانس میں قتل کا پرانا کیس: جھیل سے پستول برآمد، تفتیش میں نئی امید
فرانس میں سنہ 2012 کے دوران ایک برطانوی نژاد خاندان کے قتل کے معمہ کو حل کرنے کے لیے پولیس کو اہم سراغ مل گیا ہے۔ تفتیش کاروں کو جھیل سے ملنے والے ایک پستول سے اس اندھے قتل کیس میں پیش رفت کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
فرانسیسی پولیس کے لیے سنہ 2012 کا ایک انتہائی پیچیدہ اور سنسنی خیز قتل کیس اب ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔ حکام کو تفتیش کے دوران ایک جھیل سے پستول برآمد ہوا ہے جس کے بعد اس پرانے اور معمہ بنے کیس کے حل ہونے کی نئی امیدیں روشن ہو گئی ہیں۔ یاد رہے کہ ستمبر 2012 میں مشرقی فرانس کی ایک دلکش تعطیل گاہ میں سعد الحلی اور ان کے اہل خانہ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس اندوہناک واقعے میں سعد الحلی، ان کی اہلیہ اور ان کی ساس کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جس نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ واقعہ کے بعد سے فرانسیسی اور برطانوی تفتیشی ادارے اس سفاکانہ واردات کے محرکات اور قاتلوں تک پہنچنے کے لیے مسلسل کوشاں رہے ہیں لیکن خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ اب جھیل سے ملنے والے اس نئے ثبوت یعنی پستول کو فارنزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہی ہتھیار اس ہولناک واردات میں استعمال ہوا تھا یا نہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس ہتھیار کا تعلق واقعہ سے جڑ جاتا ہے تو یہ برسوں پرانے کیس کی گتھیاں سلجھانے میں ایک اہم ترین سنگ میل ثابت ہوگا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس نئے شرلاک ثبوت کی روشنی میں تمام پہلوؤں سے باریک بینی کے ساتھ تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر رہے ہیں تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور اس المیے کے پیچھے چھپے اصل مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔