Health
امریکہ میں خسرہ کے کیسز میں اضافہ اور وفاقی و ریاستی حکام کا تنازع
امریکہ کے محکمہ صحت کے حکام نے خسرہ سے ہونے والی اموات کے حوالے سے ریاستی حکام کے مؤقف کی تردید کر دی ہے۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں کئی دہائیوں کے دوران خسرہ کے سب سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
واشنگٹن: امریکہ میں صحت کے وفاقی اداروں اور پنسلوانیا کے ریاستی حکام کے درمیان خسرہ سے ہونے والی اموات کے معاملے پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب ملک بھر میں خسرہ کے پھیلاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور طبی ماہرین کی جانب سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ریاست کی طرف سے فراہم کردہ معلومات اور اموات کے اعداد و شمار میں تضاد پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وبائی امراض کے خلاف قومی سطح پر مؤثر حکمت عملی اپنانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب ریاستی حکام اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ مقامی سطح پر حالات کو سنبھالنے کے لیے بروقت اور درست اقدامات کیے گئے ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات میں تضاد اور باہمی اختلافات عامتہ الناس میں الجھن کا باعث بنتے ہیں، جو کہ حفاظتی ٹیکہ جات کی مہم کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ دریں اثنا، امریکہ میں حالیہ مہینوں کے دوران خسرہ کے کیسز کی تعداد کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ صحت عامہ کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کو سیاست یا انتظامی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اس وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن کی کوریج کو یقینی بنانے کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہو گا تاکہ مزید قیمتی جانوں کا زیاں روکا جا سکے۔