LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی: ایرانی ردعمل اور امریکی دھمکیوں کا جائزہ

News Image
امریکہ کے حالیہ طاقتور حملوں کے بعد تہران نے کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کے خلاف سختی سے خبردار کیا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی دھمکیوں کے آگے نہیں جھکیں گے اور مناسب وقت پر جواب دیں گے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر نئے اور طاقتور فضائی حملے کیے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کو انتہائی وسیع اور طاقتور قرار دیتے ہوئے تہران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی کی کوشش کی تو اسے پہلے سے کہیں زیادہ شدید اور تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس طرح کے سخت اقدامات خطے میں اس کے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ دوسری جانب، تہران کی اعلیٰ قیادت نے امریکی صدر کی ان دھمکیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی یہ جارحانہ پالیسی خطے کے امن کو مزید تباہ کر رہی ہے اور ایران کے پاس اپنے دفاع کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھانے کا حق محفوظ ہے۔ تہران کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکی دباؤ اور دھمکیاں ایران کو اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔ بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ کے خطرات کو بڑھا دیا ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ دونوں ممالک اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کشیدگی میں کمی کے آثار فی الحال نظر نہیں آ رہے ہیں۔