World
جرمنی کا روس پر لیپزگ ایئرپورٹ ڈرون حملے کا الزام
جرمنی نے لیپزگ ایئرپورٹ پر ہونے والے مبینہ ڈرون حملے کا ذمہ دار روس کو قرار دیا ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی ممالک میں تخریب کاری کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
جرمنی کی جانب سے روس پر ایک بار پھر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تازہ ترین بیانات کے مطابق جرمن حکام کا کہنا ہے کہ لیپزگ ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک ڈرون حملے کے پیچھے روس کا ہاتھ تھا۔ یہ انتہائی سنجیدہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پورے یورپ میں سکیورٹی کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے اور حکام کی جانب سے روسی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یورپی ممالک نے حالیہ چند مہینوں کے دوران تخریب کاری کے حملوں اور ایسی کوششوں میں نمایاں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ مغربی اور یورپی انٹیلی جنس اداروں کا ماننا ہے کہ براعظم یورپ کے مختلف حصوں میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے اس طرح کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں جن کے تانے بانے مبینہ طور پر ماسکو سے ملتے ہیں۔ اس صورتحال نے یورپی یونین اور نیٹو کے رکن ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی پالیسیوں پر از سر نو غور کرنے کی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
لیپزگ ایئرپورٹ پر پیش آنے والے اس واقعے کے بعد جرمنی سمیت دیگرممالک میں ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے نہ صرف فضائی نقل و حمل کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ علاقائی سلامتی کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جرمن حکومت اس معاملے پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اب یہ کشیدگی سائبر اسپیس اور روایتی محاذوں سے نکل کر تخریب کاری اور اہم تنصیبات پر حملوں تک پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس الزام کے بعد سفارتی سطح پر دونوں جانب سے مزید ردعمل سامنے آنے کی توقع ہے۔