World
ایران اور روس کا امریکہ کے خلاف اتحاد، باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران اور ماسکو کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے روسی ہم منصب پوتن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی سطح پر امریکی یکطرفہ پسندی کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ماسکو کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور روس عالمی سطح پر امریکی یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف مضبوطی سے ڈٹے رہیں گے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوںممالک کے درمیان سفارتی اور معاشی تعلقات میں مسلسل گہرائی آ رہی ہے اور بین الاقوامی فورمز پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔
اس عزم کا اظہار ایرانی صدر نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے اہم ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر صدر پزشکیان نے مشکل وقت میں ماسکو کی جانب سے تہران کو فراہم کی جانے والی حمایت پر روسی صدر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور روس کے درمیان تزویراتی شراکت داری خطے میں امن اور استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور دونوں ممالک مغربی دباؤ کے باوجود اپنے راستے پر گامزن رہیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مغربی پابندیوں کے شکار یہ دونوں ممالک اپنی معیشتوں اور دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ امریکی اثر و رسوخ اور یکطرفہ فیصلوں کے خلاف اس طرح کے اتحاد بین الاقوامی سیاست میں نئے بلاک کی تشکیل کی نوید سنا رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ دوطرفہ تجارت، توانائی اور دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دیں گے تاکہ مغربی پابندیوں کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔