LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کے ایران پر فضائی حملے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال

News Image
امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں کی کوشش کے جواب میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اس تازہ کشیدگی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔
امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب جہاز رانی پر مبینہ حملوں کی کوشش کے جواب میں ایران کے اندر مختلف فوجی اہداف پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی حالیہ اشتعال انگیزی اور آبنائے میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے ردعمل میں کی گئی ہے۔ ایک ماہ کے وقفے کے بعد امریکی فوج کی جانب سے ایرانی اہداف پر یہ پہلا براہ راست حملہ ہے، جس نے خطے میں ایک بار پھر عسکری محاذ آرائی کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس عسکری کارروائی کے فوراً بعد خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ ایرانی عناصر کی جانب سے بھی اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تنازعہ اب محض سمندری حدود تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا دائرہ کار پھیلتا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حملوں کے اس تازہ تبادلے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور سفارتی حلقے صورتحال کو سنبھالنے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان یہ تناؤ دنیا بھر میں تیل کی رسد اور توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی شدید خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ بین الاقوامی برادری نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کے رہنما بھی مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔