World
پیرو کی امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات بڑھانے کی منصوبہ بندی
پیرو کی نو منتخب صدر نے اپنے ملک کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کی حکومت کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 'شیلڈ آف دی امریکہ' اتحاد میں شامل ہونے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔
پیرو کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ اس وقت سامنے آیا جب ملک کی نو منتخب صدر نے اپنے اقتدار سنبھالنے کے بعد خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم بیانات دیے۔ انہوں نے اس بات کا واضح اشارہ دیا ہے کہ ان کی حکومت آنے والے دنوں میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو ایک نئی سطح پر لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پیرو اور امریکہ کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ تعلقات رہے ہیں، لیکن اس نئے اعلان سے خطے میں سفارتی اور اسٹریٹجک تعاون میں مزید تیزی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے مابین سکیورٹی، تجارت اور علاقائی استحکام کے امور پر مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس نئی پیش رفت کے تحت پیرو کے صدر کی حکومت کی جانب سے سابقہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ 'شیلڈ آف دی امریکہ' اتحاد میں باضابطہ طور پر شامل ہونے کے اشارے ملے ہیں۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد خطے میں سلامتی کے خدشات سے نمٹنا، باہمی تعاون کو فروغ دینا اور معاشی و دفاعی سطح پر ایک مضبوط بلاک کی تشکیل کرنا ہے۔ لاطینی امریکہ کے تناظر میں اس فیصلے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے خطے کے اندرونی اور بیرونی توازن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیرو کا یہ قدم علاقائی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، ملکی سطح پر اس فیصلے کے مخلوط ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ لاطینی امریکی ممالک میں امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک قربتوں پر طویل عرصے سے بحث جاری رہتی ہے۔ حکومت کے حامیوں کا خیال ہے کہ اس شراکت داری سے ملک کو معاشی امداد، سلامتی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور بیرونی سرمایہ کاری کے حصول میں مدد ملے گی، جو پیرو کی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ آنے والے ہفتوں میں اس بات کا فیصلہ متوقع ہے کہ پیرو اس اتحاد کا حصہ بننے کے لیے کیا عملی اقدامات اٹھاتا ہے اور اس کے پڑوسی ممالک اس نئی سفارتی حکمت عملی پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔