World
آبِ ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملہ، عالمی منڈی میں ہلچل
آبِ ہرمز کے قریب دو بڑے آئل ٹینکرز کو نامعلوم پراجیکٹائلز اور بارودی سرنگوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ برطانوی بحری تجارتی آپریشنز (UKMTO) نے تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ آبِ ہرمز سے باہر نکلتے وقت پیش آیا۔
خلیج فارس کے انتہائی حساس اور اہم ترین سمندری گزرگاہ آبِ ہرمز میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جب اطلاعات کے مطابق دو بڑے آئل ٹینکرز کو نامعلوم پراجیکٹائلز اور بارودی سرنگوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ برطانوی بحری تجارتی آپریشنز (UKMTO) کے جاری کردہ ابتدائی بیان کے مطابق، ایک آئل ٹینکر پر اس وقت کم از کم تین پراجیکٹائلز سے حملہ کیا گیا جب وہ آبِ ہرمز سے باہر بحر کی جانب سفر کر رہا تھا۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر بحری جہاز رانی اور توانائی کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔
دوسری جانب، ایرانی میڈیا اور تہران کے انقلابی گارڈز (IRGC) کے حوالے سے بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ خطے میں ایک اور سپر ٹینکر کو مبینہ طور پر بارودی سرنگوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ دریں اثنا، ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ آبِ ہرمز میں ایک سعودی آئل ٹینکر کو روکا گیا ہے، تاہم سعودی عرب کی جانب سے اس واقعے کی فوری طور پر کوئی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ خطے میں موجود بین الاقوامی بحری فورسز اور دفاعی تجزیہ کار صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ ان حملوں کے پیچھے کون سا فریق ملوث ہے۔
یہ حالیہ واقعات اس خطے میں پہلے سے موجود جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن رہے ہیں، جہاں دنیا کا ایک بڑا حصہ اپنی تیل کی ضروریات کے لیے اسی سمندری راستے پر انحصار کرتا ہے۔ آبِ ہرمز سے تیل کی ترسیل میں کسی بھی قسم کی طویل رکاوٹ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچھال کا سبب بن سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات پڑیں گے۔ توانائی کے عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسٹریٹجک سمندری گزرگاہوں پر حملوں کا یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو دنیا بھر میں ایک نئی معاشی اور توانائی کی بحرانی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔
متعلقہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے بحری سلامتی کو یقینی بنانے اور جہاز رانی کے تحفظ کے لیے فوری اقداماتن کا مطالبہ کیا ہے۔ جہاز رانی کمپنیوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس خطے میں سفر کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیں اور سیکیورٹی پروٹوکولز کو سخت کریں۔ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہونے کی توقع ہے تاکہ خطے کو کسی بڑی فوجی تصادم سے بچایا جا سکے اور عالمی سپلائی چین کو محفوظ بنایا جا سکے۔