LIVE
Loading Breaking News...

برہم کا ضروری خدمات پر عوامی کنٹرول اور اختیارات کی منتقلی کا وعدہ

News Image
برہم نے ارکان پارلیمنٹ سے اپنے پہلے خطاب میں ضروری خدمات میں عوامی کنٹرول اور مزید اختیارات دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ٹوری رہنما کیمی بیڈینوچ نے اس پالیسی کو زیادہ سرکاری کنٹرول اور ٹیکسوں کا باعث قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
برطانوی سیاست میں اس وقت ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب برہم نے بطور وزیراعظم پہلی بار اراکین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں مزید اختیارات کی منتقلی اور ضروری خدمات پر عوامی کنٹرول کو بڑھانے کا پختہ عزم ظاہر کیا۔ اپنے اس اہم خطاب کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی امور اور روزمرہ کی اہم خدمات کو عامتہ الناس کے زیادہ قریب لایا جانا چاہیے تاکہ عوام کو براہ راست ریلیف اور فیصلہ سازی میں حصہ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے ہی حقیقی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب اس پالیسی پر اپوزیشن کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ٹوری جماعت کی رہنما کیمی بیڈینوچ نے برہم کے اس بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے مزید حکومتی مداخلت کا شاسانہ قرار دیا۔ کیمی بیڈینوچ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ برہم کی جانب سے پیش کیا جانے والا یہ وژن دراصل زیادہ حکومتی کنٹرول، مزید ٹیکسوں اور سیاستدانوں کی تعداد میں اضافے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس قسم کے اقدامات سے عوام پر مالی بوجھ مزید بڑھ جائے گا اور انتظامی امور میں بہتری کے بجائے پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ اس سیاسی گرما گرمی نے برطانوی پارلیمنٹ میں بحث کو ایک بار پھر تیز کر دیا ہے جہاں حکمران جماعت اور اپوزیشن کے مابین عوامی خدمات کے مستقبل اور حکومتی ڈھانچے پر شدید اختلافات ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے نفاذ اور اپوزیشن کے اعتراضات کے درمیان سیاسی محاذ آرائی میں مزید تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے، جو کہ برطانوی حکومت کے مستقبل کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔