LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل اور برطانیہ کے تعلقات میں کشیدگی، پابندیوں کی دھمکی

News Image
برطانوی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے خلاف نئی پالیسی اور ممکنہ پابندیوں کے اعلان پر تل ابیب نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی یکطرفہ پابندیوں کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے اور اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ میلی بینڈ کے حالیہ بیانات اور پالیسی میں تبدیلی کے اعلان کے بعد برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایڈ میلی بینڈ نے منگل کے روز اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ اسرائیل سے متعلق برطانوی خارجہ پالیسی میں ایک جامع اور بڑی تبدیلی لائیں گے، جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور انسانی المیے پر قابو پانا ہے۔ برطانوی حکومت کے اس ممکنہ فیصلے کے بعد عالمی سطح پر سیاسی ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے برطانوی حکومت کے اس مجوزہ اقدام پر انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے اسرائیل کے خلاف کسی بھی قسم کی یکطرفہ پابندیاں عائد کیں یا پالیسی میں کوئی منفی تبدیلی کی، تو تل ابیب اس کا بھرپور اور سخت جواب دے گا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حکومت کا ماننا ہے کہ ایسے وقت میں جب اسرائیل کو شدید سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، اتحادی ممالک کی طرف سے اس طرح کے دباؤ یا پابندیوں کا نفاذ قطعی طور پر ناقابل قبول ہے اور اس سے دوطرفہ تعلقات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دوسری جانب، برطانوی وزارت خارجہ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ تبدیلیوں کا مقصد بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔ ایڈ میلی بینڈ کا موقف رہا ہے کہ برطانوی خارجہ پالیسی کو خطے میں پائیدار امن اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ڈھالنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں برطانوی حکومت پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سول سوسائٹی کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے کہ وہ اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف عملی اقدامات اٹھائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر برطانیہ نے عملی طور پر اسرائیل کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھایا یا پابندیاں عائد کیں، تو اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے روایتی تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیاسی اور سفارتی صورتحال پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطوں اور ملاقاتوں کا امکان ہے تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کنٹرول کیا جا سکے اور مزید بگاڑ کو روکا جا سکے۔