Technology
خواتین خلاء نوردوں کا تاریخی اسپیس واک - نیکسورا نیوز
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے باہر دو خواتین خلاء نوردوں نے تاریخ کا چھٹا تمام خواتین پر مشتمل اسپیس واک کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ خلائی تاریخ کا ایک نایاب اور اہم ترین واقعہ ہے جس نے خلائی تحقیقات میں خواتین کے کردار کو مزید اجاگر کیا ہے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے باہر تاریخ میں چھٹی بار دو خواتین خلاء نوردوں نے ایک نایاب اور تاریخی اسپیس واک کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔ اس اہم مشن نے دنیا بھر میں خلائی سائنس اور تحقیق کے میدان میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور ان کی صلاحیتوں کا ایک بار پھر لوہا منوا لیا ہے۔ خلاء کی وسیع و عریض فضاؤں میں کیے جانے والے اس خطرناک اور تکنیکی طور پر پیچیدہ کام کو دونوں خلاء نوردوں نے انتہائی مہارت اور پیشہ ورانہ انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
خلائی تحقیقاتی اداروں کے مطابق، اس مشن کا بنیادی مقصد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے بیرونی حصوں کی مرمت، ضروری آلات کی تنصیب اور پہلے سے موجود سسٹمز کی دیکھ بھال کرنا تھا۔ اس نوعیت کے اسپیس واک انتہائی کٹھن ہوتے ہیں جہاں خلاء نوردوں کو انتہائی شدید درجہ حرارت، سورج کی براہ راست خطرناک شعاعوں اور خلاء کے بے پناہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود، ان دونوں خواتین نے شجاعت اور عزم کی بہترین مثال قائم کرتے ہوئے مقررہ اہداف کو کامیابی سے حاصل کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلائی تاریخ میں تمام خواتین پر مشتمل اس طرح کے مشنز کی تعداد اب بھی نسبتاً کم ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس رجحان میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف موجودہ دور کی خواتین خلاء نوردوں کے لیے فخر کا باعث ہے بلکہ یہ آنے والی نسلوں کی لڑکیوں کے لیے بھی سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے شعبوں میں کیریئر بنانے کی ایک بڑی ترغیب ہے۔
خلائی اسٹیشن پر موجود دیگر عملے اور زمین پر موجود کنٹرول روم کے سائنسدانوں نے دونوں خواتین کی اس شاندار کامیابی پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس مشن کی کامیابی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل کے طویل مدتی خلائی مشنز میں خواتین کو مزید اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی، جو کہ خلائی تحقیق کے مستقبل کے لیے ایک انتہائی خوش آئند قدم ہے۔