World
پولینڈ اور روس تنازع: میزائل دراندازی پر روسی سفیر طلب
پولینڈ نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر روسی سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ وارسا کا ماننا ہے کہ یہ میزائل حال ہی میں تیار کیا گیا تھا جو روس کے یوکرین پر حملوں کو ظاہر کرتا ہے۔
وارسا: پولینڈ کی وزارت خارجہ نے روسی سفیر کو طلب کرکے اپنی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ حکام کے مطابق یوکرین پر جاری روسی حملوں کے دوران ایک میزائل نے پولینڈ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جس کے بعد یہ سفارتی قدم اٹھایا گیا ہے۔ پولینڈ کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کو ہلکا نہیں لیا جا سکتا کیونکہ اس سے خطے کی سلامتی کو براہ راست خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
تحقیقات کے ابتدائی شواہد کے حوالے سے پولینڈ کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ یہ میزائل حال ہی میں تیار کیا گیا تھا۔ وارسا کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ روس یوکرین کے خلاف اپنے شبانہ حملوں اور فضائی بمباری کے لیے تازہ ترین ذخائر اور جنگی وسائل استعمال کر رہا ہے، جو خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ نیٹو کے اتحادی بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
پولینڈ کے وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سرحدی سلامتی کا دفاع ہر قیمت پر کیا جائے گا۔ انہوں نے روس پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے اور پڑوسی ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں سے گریز کرے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی برادری نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات سے روس اور نیٹو کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ پولینڈ جو کہ یوکرین کا پڑوسی اور نیٹو کا اہم رکن ہے، اس تنازعے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ وارسا میں حکومتی سطح پر اس معاملے کی مزید تکنیکی تحقیقات جاری ہیں تاکہ آئندہ ایسے کسی بھی واقعے سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔