World
اقوام متحدہ کا غزہ اور مغربی کنارے کے لیے خوراک کی امداد میں کٹائی کا فیصلہ
امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک کے عطیات میں نمایاں کمی کے بعد بین الاقوامی امدادی تنظیمیں شدید مالی بحران کا شکار ہو گئی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ نے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کے لیے خوراک کی امداد میں کٹوتیاں کر دی ہیں۔
بین الاقوامی امدادی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کے ادارے اس وقت شدید مالی بحران سے دوچار ہیں کیونکہ امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک نے اپنے عطیات میں انتہائی تیزی سے کمی کر دی ہے۔ اس مالیاتی قلت کے نتیجے میں خطے میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور لاکھوں ضرورت مند افراد مشکلات کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق فنڈنگ کی اس بڑی کمی کے بعد اقوام متحدہ نے مجبورا مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں خوراک کی امداد میں خاطر خواہ کٹوتیاں کر دی ہیں۔ غزہ اور مغربی کنارے میں پہلے ہی محاصرے اور تنازعات کی وجہ سے عوام کو بنیادی ضروریات زندگی بالخصوص خوراک کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا تھا، اور اب امداد میں کمی نے اس انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
امدادی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے مطابق بین الاقوامی برادری کی جانب سے فنڈز کی بروقت فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا ہے۔ مغربی ڈونرز کی جانب سے بجٹ میں کمی اور امدادی رقوم روکنے کے بعد اقوام متحدہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا کہ وہ دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے امدادی پیکجز کو محدود کرے، جس سے عام شہریوں کی زندگیاں براہ راست خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بین الاقوامی ڈونرز اور مخیر ممالک نے فوری طور پر آگے بڑھ کر فنڈنگ بحال نہ کی تو غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں قحط سالی اور غذائی قلت کے شکار افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ حکام نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس انسانی المیے کو روکنے کے لیے فوری طور پر مالی معاونت فراہم کریں تاکہ متاثرہ آبادی تک خوراک کی ترسیل بلا تعطل جاری رکھی جا سکے۔