LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل یونان دفاعی معاہدہ 3.5 ارب ڈالر

News Image
اسرائیل اور یونان نے ساڑھے تین ارب ڈالر مالیت کے ایک بڑے دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
اسرائیل اور یونان کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دیتے ہوئے ساڑھے تین ارب ڈالر مالیت کا ایک اہم ترین معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے، جس سے خطے میں عسکری توازن اور اسٹریٹجک شراکت داری کو ایک نئی جہت ملے گی۔ اس عسکری سمجھوتے کے تحت دونوں ممالک جدید دفاعی آلات، ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی سے متعلق اہم امور میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ معاہدے کی تفصیلات کے مطابق، اس بھاری بھرکم دفاعی پیکیج میں جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی، دفاعی نظاموں کی مشترکہ ترقی اور فوجیوں کی تربیت جیسے امور شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں مشرقی بحیرہ روم کے خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر اسرائیل اور یونان کے تعلقات میں غیر معمولی گرم جوشی دیکھنے میں آئی ہے۔ دونوں ممالک نے توانائی اور دفاع کے شعبوں میں مل کر کام کرنے پر خصوصی زور دیا ہے، جو ان کے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ اس معاہدے کے مالیاتی حجم اور وسعت کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے معاہدے نہ صرف دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم کرتے ہیں بلکہ معاشی اور تکنیکی سطح پر بھی باہمی تعاون کے نئے دروازے کھولتے ہیں۔ دونوں حکومتوں کے اعلیٰ حکام نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یہ معاہدہ مستقبل میں خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے بھی معاون ثابت ہوگا۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دونوں ممالک سیکیورٹی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔ دونوں اطراف سے دفاعی اور تکنیکی ٹیمیں اس معاہدے پر جلد عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ ملاقاتیں کریں گی تاکہ طے پانے والے اہداف کو مقررہ مدت میں حاصل کیا جا سکے۔ اس پیش رفت کو بین الاقوامی دفاعی مارکیٹ میں بھی انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔