World
امریکی تجارتی تنازع، کینیڈا کا امریکہ سے سنجیدہ ہونے کا مطالبہ
کینیڈین رہنما مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکہ کو کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ رویہ اپنانا ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان معاشی امور اور ملکی خودمختاری کے حوالے سے لفظی جنگ جاری ہے۔
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب کینیڈین رہنما مارک کارنی نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ دوطرفہ تجارتی تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے معاشی اور تجارتی امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں جو حالیہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اس تنازع کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس کا اثر شمالی امریکہ کی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، مارک کارنی اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکی انتظامیہ کے مابین بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ کینیڈین خودمختاری کو درپیش مبینہ خطرات اور تجارتی پالیسیوں پر دونوں اطراف سے سخت مؤقف اپنایا گیا ہے۔ کینیڈا کی جانب سے بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ باہمی تجارت کے اصولوں کا احترام کیا جائے اور یکطرفہ فیصلوں سے گریز کیا جائے تاکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے اقتصادی روابط متاثر نہ ہوں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کینیڈا اور امریکہ کے مابین یہ کشمکش محض تجارتی معاملات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں سیاسی اور اسٹریٹجک نوعیت کے تحفظات بھی شامل ہیں۔ امریکہ کی جانب سے محصولات اور تجارتی پابندیوں کے خطرات نے کینیڈین معیشت میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ کینیڈا کی حکومت اپنے اقتصادی مفادات کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہے اور واشنگٹن سے دوٹوک مذاکرات کا مطالبہ کر رہی ہے۔
آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے متوقع ہیں تاکہ ان تنازعات کو بات چیت کے ذریعے سلجھایا جا سکے۔ تاہم، موجودہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ جب تک دونوں فریقین باہمی رضامندی اور لچک کا مظاہرہ نہیں کرتے، اس تجارتی تنازع کا فوری حل نکلنا مشکل دکھائی دیتا ہے جس پر دنیا بھر کے معاشی ماہرین کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔