World
گنی بساؤ ریفرنڈم میں صدر کے اختیارات بڑھانے کی منظوری
گنی بساؤ کے قومی الیکشن کمیشن کے مطابق حالیہ ریفرنڈم میں ستر فیصد ووٹرز نے صدارتی اختیارات میں توسیع کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اس آئینی اور سیاسی پیش رفت کے بعد ملک میں سیاسی نظام کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز ہونے کی توقع ہے۔
مغربی افریقی ملک گنی بساؤ میں حال ہی میں منعقد ہونے والے قومی ریفرنڈم کے حتمی اور سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں، جن کے مطابق ووٹرز نے بڑی تعداد میں صدر کے اختیارات میں توسیع کرنے کی تجویز کی توثیق کر دی ہے۔ قومی الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ریفرنڈم میں حصہ لینے والے تقریبا ستر فیصد ووٹرز نے ان آئینی اور انتظامی تبدیلیوں کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ اس اہم فیصلے کو ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک بڑا موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان آئینی ترامیم کے نفاذ کے بعد ملک کے صدر کے پاس انتظامی اور حکومتی امور میں مزید وسیع اختیارات آ جائیں گے۔ اس اقدام سے حکومت کے فیصلوں میں تیزی آنے کی توقع کی جا رہی ہے تاہم بعض حلقوں کی طرف سے اس پر بحث بھی جاری ہے کہ آیا یہ تبدیلیاں طاقت کے توازن کو کس حد تک متاثر کریں گی۔ حکومت اور اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط صدارتی قیادت ناگزیر تھی۔
قومی الیکشن کمیشن نے ریفرنڈم کے عمل کو پرامن اور منظم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا۔ ووٹنگ کے دوران سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ اب جب کہ نتائج سرکاری طور پر سامنے آ چکے ہیں، توقع کی جا رہی ہے کہ ملک میں آئندہ کے لائحہ عمل کے تحت نئی اصلاحات پر عمل درآمد کا آغاز جلد کر دیا جائے گا، جس پر اندرون ملک اور بین الاقوامی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔