World
اسرائیل میں جنگی اخراجات پر وزارت خزانہ اور دفاع آمنے سامنے
اسرائیل کے جاری تنازعات اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے وزارتِ خزانہ اور وزارتِ دفاع کے درمیان خلیج گہری ہوتی جا رہی ہے۔ آئندہ بجٹ کے فیصلوں سے قبل دونوں اہم اداروں میں وسائل کی تقسیم پر سخت کشمکش جاری ہے۔
بیت المقدس: اسرائیل کی جانب سے بیک وقت لڑی جانے والی متعدد جنگوں کے نتیجے میں ملکی معیشت پر شدید دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جس کے باعث وزارتِ خزانہ اور وزارتِ دفاع کے درمیان بجٹ کے معاملات پر کشمکش کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ دونوں اہم حکومتی اداروں کے مابین یہ اختلافات ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہے ہیں جب ملک کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے حتمی فیصلے کیے جانے ہیں۔ جنگی سرگرمیوں کے اخراجات میں دن بدن اضافے نے قومی خزانے پر بوجھ بڑھا دیا ہے، جس پر مالیاتی امور کے نگران ادارے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ کا مؤقف ہے کہ جنگ کے بڑھتے ہوئے مصارف کو پورا کرنے کے لیے دفاعی بجٹ میں سختی سے نظم و ضبط لانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو مالیاتی بحران سے بچایا جا سکے۔ دوسری جانب، وزارتِ دفاع کا اصرار ہے کہ موجودہ سکیورٹی چیلنجز اور متعدد محاذوں پر جاری لڑائی کے پیشِ نظر فوج کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں کسی قسم کی کٹوتیا کمی ملکی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے بجٹ سازی کا عمل تعطل کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
اسرائیلی معیشت پر جنگ کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور ماہرین اقتصادیات بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تجارتی سرگرمیوں میں سست روی اور دفاعی ضروریات کے لیے بھاری فنڈز کی مسلسل فراہمی نے حکومت کے لیے مالیاتی توازن برقرار رکھنا انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں دونوں وزارتوں کے درمیان کوئی متوازن حل تلاش نہ کیا گیا تو حکومت کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت کے اعلیٰ ترین حلقوں میں اس تنازع کو حل کرنے کے لیے مشاورت کا عمل جاری ہے، تاہم کوئی بھی فریق اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار دکھائی نہیں دیتا۔ آئندہ چند دنوں میں ہونے والے بجٹ اجلاس اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ اسرائیل کس طرح اپنی دفاعی ضروریات اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔