World
زیمبیا کے صدر ہاکائండే ہچلیما کا متنازعہ انتخابات کے بعد دوبارہ حلف
ہاکائండే ہچلیما نے ایک متنازعہ انتخابی عمل کے بعد زیمبیا کے صدر کی حیثیت سے دوبارہ حلف اٹھا لیا ہے۔ اس انتخابی عمل کے دوران ان کے اہم حریف کو جیل میں ڈالا گیا اور عدالتیں بند رہیں۔
زیمبیا کی سیاست میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ہاکائండే ہچلیما نے متنازعہ انتخابات کے بعد ملک کے صدر کی حیثیت سے دوبارہ منصبِ صدارت کا حلف اٹھا لیا ہے۔ گزشتہ ماہ ہونے والے ان انتخابات کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنازعات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کی وجہ سے سیاسی بے یقینی کی فضا قائم رہی۔ مبصرین کے مطابق، انتخابی عمل کے دوران شفافیت کے فقدان اور انتظامی رکاوٹوں نے جمہوریت کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
حلف برداری کی اس تقریب کے دوران حالات انتہائی کشیدہ رہے کیونکہ موجودہ حکومت کے اہم ترین سیاسی حریف کو انتخابات سے قبل ہی جیل میں بند کر دیا گیا تھا۔ سیاسی مخالفین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس گرفتاری کو جمہوریت کے منافی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد حزب اختلاف کی آواز کو دبانا اور سیاسی میدان کو حکمران جماعت کے لیے کھلا چھوڑنا تھا تاکہ انتخاب میں کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزید برآں، اس پورے انتخابی بحران کے دوران ملک کی عدالتیں بھی بند رکھی گئیں، جس کی وجہ سے انتخابی نتائج اور قانونی چیلنجز کے خلاف دادرسی کا کوئی موثر فورم دستیاب نہیں تھا۔ عدالتی امور کی معطلی نے جمہوری نظام کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
صدر ہاکائండే ہچلیما کے لیے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ملک کو درپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹنا ایک کڑا امتحان ہوگا۔ ان کو سب سے پہلے ملک میں سیاسی مفاہمت کی فضا بحال کرنے اور منقسم قوم کو ایک لڑی میں پروئے جانے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ زیمبیا کی حکومت سیاسی مخالفین کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتی ہے اور ملک کو جمہوریت اور قانون کی حمرانی کی راہ پر واپس لانے کے لیے کیا لائحہ عمل اپناتی ہے۔