World
اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک: مغربی کنارے میں امداد میں کٹوتی
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک نے شدید مالیاتی بحران کے پیش نظر مغربی کنارے میں امدادی سرگرمیوں میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کٹوتی سے ہزاروں متاثرہ خاندانوں کو ملنے والی خوراک اور مالی معاونت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے شدید مالیاتی بحران کے باعث مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی امدادی سرگرمیوں میں کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ عالمی ادارے کو درپیش فنڈز کی قلت کی وجہ سے خطے میں جاری امدادی پروگرامز کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور مجبوراََ معاونت کے حجم کو کم کرنا پڑا ہے۔
ذرائع کے مطابق فنڈز کی کمی کا یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں معاشی حالات پہلے ہی انتہائی ناگفتہ بہ ہیں اور عامتہ الناس کو روزمرہ کی زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ امدادی سامان کی فراہمی میں کمی یا بندش سے ہزاروں ایسے خاندان براہ راست متاثر ہوں گے جو مکمل طور پر بین الاقوامی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔
عالمی ادارہ خوراک اور دیگر فلاحی تنظیمیں طویل عرصے سے عالمی برادری اور عطیہ دہندگان سے مالی امداد میں اضافے کی اپیل کرتی رہی ہیں تاکہ انسانی بحران کو روکا جا سکے۔ تاہم مطلوبہ فنڈز بروقت مہیا نہ ہونے کی وجہ سے امدادی اداروں کو انتہائی نوعیت کے فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں جن سے سب سے زیادہ غریب اور نادار طبقات متاثر ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر بین الاقوامی سطح پر فوری مالی مدد فراہم نہ کی گئی تو مغربی کنارے سمیت دیگر خطوں میں انسانی امداد کا نظام مزیدتر لڑکھڑا سکتا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خوراک کی عدم تحفظ کا شکار آبادی کو مزید مصائب سے بچایا جا سکے۔