World
غزہ میں صحت کا بحران، بارشوں کے موسم پر ڈبلیو ایچ او کی وارننگ
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بارشوں کے موسم کے قریب آتے ہی سنگین طبی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ محصور فلسطینی علاقے میں پہلے ہی پانی کا معیار انتہائی خراب ہے اور ممکنہ سیلاب خطرات میں مزید اضافہ کرے گا۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محصور فلسطینی علاقے غزہ میں بارشوں کے موسم کی آمد کے ساتھ ہی صحت کا ایک بہت بڑا بحران سر اٹھا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے کے مطابق غزہ میں پانی کا معیار پہلے ہی انتہائی تشویشناک حد تک خراب ہے اور ایسے میں بارشوں اور ممکنہ سیلاب کی صورتحال انسانی صحت کو لاحق خطرات کو کئی گنا بڑھا دے گی۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ نکاسی آب کے نظام کی تباہی اور صاف پانی کی عدم دستیابی پہلے ہی بیماریوں کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے، اور بارشوں سے صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے حکام نے بتایا ہے کہ محصور پٹی میں بنیادی ڈھانچہ بری طرح تباہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے بارش کا پانی سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں جمع ہونے کا شدید خدشہ ہے۔ اس طرح کے ماحول میں ہیضہ، اسہال اور جلد کی بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں، بالخصوص بچوں اور بزرگوں کے لیے یہ صورتحال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ طبی سامان کی رسد میں مشکلات اور اسپتالوں کی محدود صلاحیت اس بحران کو مزید گھمبیر بنا رہی ہے، کیونکہ پہلے ہی زخمیوں اور مریضوں سے اسپتال بھرے پڑے ہیں۔
عالمی ادارے نے فوری طور پر بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، تاکہ پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے اور صفائی کے انتظامات کو ہنگامی بنیادوں پر درست کیا جا سکے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بارشوں کے موسم میں بیماریاں وبائی شکل اختیار کر سکتی ہیں، جس سے انسانی نقصان میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ غزہ کے شہری پہلے ہی محاصرہ اور بمباری کے باعث شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہیں، اور یہ نیا طبی خطرہ ان کی مشکلات میں مزید خوفناک اضافہ کر رہا ہے۔