LIVE
Loading Breaking News...

وانواتو فرانس تنازع اور عالمی عدالت انصاف کی جورسڈکشن

News Image
وانواتو نے فرانسیسی کنٹرول کو نوآبادیاتی دور کی یادگار قرار دیتے ہوئے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے پر زور دیا ہے۔ یہ تنازع بحر الکاہل کے جزائر پر فرانسیسی تسلط اور فرانسیسی سیاست میں اس کے استعمال کے گرد گھومتا ہے۔
بحر الکاہل کے جزیرے پر مشتمل ملک وانواتو نے فرانس پر شدید سفارتی دباؤ بڑھانا شروع کر दिया ہے کہ وہ بحر الکاہل میں واقع متنازع جزائر پر اپنے کنٹرول کے معاملے پر بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کی دائرہ اختیار یعنی جورسڈکشن کو تسلیم کرے۔ وانواتو کا مؤقف ہے کہ ان جزائر پر فرانسیسی تسلط نوآبادیاتی دور کی ایک تلخ یادگار ہے جو اکیسویں صدی میں بھی برقرار رکھی گئی ہے، جبکہ اب وقت آ گیا ہے کہ اس طویل تنازع کا منصفانہ اور بین الاقوامی قانون کے مطابق حل نکالا جائے۔ دوسری طرف، یہ معاملہ فرانسیسی سیاست میں بھی ایک اہم موضوع بن چکا ہے جہاں دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں اس ایشو کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ فرانسیسی سیاست دان اس صورتحال کو اندرونی سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے یہ سفارتی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر مبصرین کا ماننا ہے کہ وانواتو کی جانب سے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کی یہ کوشش پیسیفک کے خطے میں نوآبادیاتی بقایا جات کے خاتمے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس پیش رفت سے فرانسیسی حکومت پر بین الاقوامی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے کیونکہ دنیا بھر میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی آوازیں ایک بار پھر بلند ہو رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس تنازع پر سفارتی سطح پر مزید گرما گرم بحث دیکھنے کو ملے گی اور دیگر بین الاقوامی ادارے بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔