Pakistan
بلوچستان کسٹم ہاؤس حملہ: 5 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 6 شہید، 21 دہشت گرد ہلاک
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان میں کسٹم ہاؤس پر حملے اور دیگر کارروائیوں کے دوران 5 سیکیورٹی اہلکاروں اور ایک کسٹم افسر نے جام شہادت نوش کیا جبکہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 21 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک عزم استحکام کے تحت کارروائیاں پوری قوت سے جاری رہیں گی۔
راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ بلوچستان میں ضلع چاغی کے علاقے نوکچھی اور پشین کے علاقے زیارت کراس میں سیکیورٹی فورسز کی موثر جوابی کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ پراکسیز فتنہ الہند اور فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے اکیس دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے ہیں۔ کسٹم ہاؤس پر حملے کے دوران دو افسران سمیت پانچ سیکیورٹی اہلکاروں اور ایک سرکاری کسٹم اہلکار نے فرض کی راہ میں جام شہادت نوش کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے کسٹم ہاؤس کو نشانہ بنانے کے لیے ایک مربوط اور بزدلانہ حملہ کیا، جس کا مقصد کسٹم کے عملے کو ان کی قانونی ذمہ داریوں کی انجام دہی سے روکنا اور علاقے میں مجرمانہ سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا۔ سیکیورٹی فورسز نے اس حملے کا بھرپور اور فوری جواب دیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد دس دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ فرار ہونے والے دیگر دہشت گردوں کا تعاقب کیا گیا۔ اس شدید مقابلے کے دوران چھ بہادر سپوتوں نے مادرِ وطن کی جغرافیائی حدود اور سلامتی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ترجمان پاک فوج نے مزید بتایا کہ ایک اور واقعے میں 31 اگست کو فتنہ الہند کے دہشت گردوں نے این 40 کوئٹہ تفتان ہائی وے پر مسافروں کی پرامن نقل و حرکت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی اور بھتہ خور کے طور پر ایک غیر قانونی ناکہ لگایا۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے موقع پر ہی گیارہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا اور ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد بھی برآمد کر لیا۔ آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی کے وژن کے مطابق عزم استحکام کے نام سے شروع کی جانے والی انسداد دہشت گردی کی جامع مہم پورے عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔ پاکستان کی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی فورسز ملک سے اس ناسور اور بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ علاقے میں کسی بھی باقی ماندہ دہشت گرد کے خاتمے اور شہریوں نیز اہم قومی شاہراہوں کی مکمل حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشنز تاحال جاری ہیں۔