LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کا مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد پر سخت اقدامات کا عزم

News Image
برطانوی وزیر خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف شدت پسند آباد کاروں کے تشدد پر سخت اقدامات اور جامع پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانوی حکومت نے کوئی پابندیاں عائد کیں تو اسرائیل بھی اس کے خلاف جوابی قدم اٹھائے گا۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ نے منگل کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے ہونے والے ہولناک تشدد کے خلاف ایک سخت اور جامع ردعمل کا عزم ظاہر کیا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا نے آباد کاروں کی دہشت گردی اور فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے زبردستی نکالے جانے کے مناظر دیکھے ہیں، اور اب برطانوی حکومت دو ریاستی حل کو تباہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آنے والے ہفتوں میں اس پالیسی میں مکمل تبدیلی لاتے ہوئے مؤثر اقدامات کا ایک جامع پیکج سامنے لایا جائے گا تاکہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ برطانوی وزیر نے خصوصی طور پر متنازعہ ای ون (E1) ڈویلپمنٹ پلان کا ذکر کرتے ہوئے اسے ایک سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف قرار دیا، جو کہ مغربی کنارے کے وسط کو کاٹتا ہے اور ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ برطانوی حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح مقبوضہ علاقوں کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو محدود کیا جائے تاکہ برطانوی کمپنیاں نئی بستیوں کی فنڈنگ، تعمیرات یا تشہیر میں حصہ نہ لے سکیں۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت کی طرف سے اس برطانوی مؤقف پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے ایک پوڈ کاسٹ میں سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر برطانیہ نے اسرائیل کے خلاف کوئی اقدام کیا تو ریاستِ اسرائیل بھی برطانیہ کے خلاف کارروائی کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ دور اب ختم ہو چکا ہے جب اسرائیل کے خلاف اقدامات کیے جاتے تھے اور اسرائیل خاموش رہتا تھا۔ اگرچہ اسرائیلی وزیر نے یہ واضح نہیں کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور دنیا کی پانچویں بڑی معیشت کے خلاف کس نوعیت کی جوابی کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق سفارت کاروں کی بے دخلی جیسے اقدامات پرغور کیا جا رہا ہے۔ یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد کار تین ملین فلسطینیوں کے ساتھ مقیم ہیں، اور حالیہ مہینوں میں انتہا پسند آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی املاک، زرعی اراضی اور حتیٰ کہ مساجد پر حملوں کے واقعات میں بھی خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔