LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال

News Image
امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ تہران نے امریکی دھمکیوں کے باوجود بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کا ایک نیا اور شدید سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی فوج کی جانب سے یہ کارروائی اس خطے میں مبینہ طور پر ہونے والے حملوں کی کوششوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس تازہ ترین فوجی اقدام کے بعد مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے اور عالمی رہنماؤں کی طرف سے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب تہران نے امریکی دھمکیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان نئے حملوں کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے اور کسی بھی جارحیت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب تہران کی جانب سے اسلام آباد میمورنڈم کی طرف واپسی پر زور دیا جا رہا ہے۔خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی نے بین الاقوامی معیشت اور تیل کی سپلائی لائنز کے حوالے سے بھی شدید خدشات کو جنم دیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں توانائی کی نقل و حمل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ محاذ آرائی خطے کو ایک اور بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے۔