LIVE
Loading Breaking News...

امریکی پابندیاں اور ایرانی معیشت کی موجودہ صورتحال

News Image
امریکہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ سخت ترین پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے باوجود ایرانی معیشت مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچی ہوئی ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کے پاس بیرونی زرمبادلہ کے کافی ذخائر موجود ہیں جو بحران سے نمٹنے کے لیے مددگار ہیں۔
امریکہ اور بالخصوص سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور سے شروع ہونے والی معاشی جنگ اور سخت ترین پابندیوں کے باوجود ایرانی معیشت اب تک مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور رپورٹوں کے مطابق، تہران کو اگرچہ شدید معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایندھن کے بحران کا سامنا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے پاس اب بھی خاطر خواہ بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں۔ ایرانی قیادت نے اعتراف کیا ہے کہ جاری جنگ اور پابندیوں نے معیشت کو نقصان پہنچایا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دفاعی حکمت عملی اور سفارتی کوششوں کو بھی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ معاشی محاذ پر مشکلات کے باوجود حکومت اندرونی نظام کو چلانے کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ سوالیہ نشان اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ دباؤ تہران کو کسی بڑے سمجھوتنے پر مجبور کر پائے گا یا نہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ایران کی معیشت تیزی سے زوال پذیر ہے اور عام شہریوں کو ایندھن اور اشیائے خوردونوش کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، مگر تہران کی حکومت نے غیر روایتی تجارتی ذرائع اور اندرونی وسائل کی بدولت خود کو سنبھالا ہوا ہے۔ دوسری جانب، یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال ایران کے معاشی ڈھانچے کو اندر سے مسلسل کمزور کر رہی ہے۔ ایران کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ سفارت کاری کے دروازے بھی کھلے رکھے ہوئے ہیں اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بھی برقرار رکھیں گے تاکہ کسی بھی بیرونی دباؤ کا مؤثر جواب دیا جا سکے.