LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان ہسپتال آتشزدگی: نرس کا انٹرویو اور حکومتی ردعمل

News Image
پاکستان کے ایک ہسپتال کے نرسری وارڈ میں لگنے والی ہولناک آگ کے دوران ایک نومولود کو معجزانہ طور پر بچانے والی نرس نے تمام بچوں کو نہ بچا سکنے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ حکومت پاکستان اس نرس کو اس کی شجاعت پر سول اعزاز سے نوازنے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ پارلیمانی کمیٹیوں نے واقعے کی تحقیقات اور غفلت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
پاکستان کے ایک نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں پیش آنے والے دلخراش آتشزدگی کے واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے۔ اس ہولناک حادثے کے دوران ایک فرض شناس نرس نے انتہائی شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگ کے شعلوں کے درمیان سے ایک نومولود بچے کو بحفاظت نکال لیا۔ تاہم، اس نرس کا کہنا ہے کہ وہ خوش ہے کہ وہ ایک معصوم کی جان بچانے میں کامیاب رہی، لیکن اسے اس بات کا شدید دکھ اور افسوس ہے کہ وہ وارڈ میں موجود باقی بچوں کو نہیں بچا سکی۔ یہ واقعہ پاکستان کے نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔ اس بہادری کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اس نرس کو اس کی شجاعت اور فرض شناسی پر اعلیٰ قومی اعزاز سے نوازا جائے گا۔ نرس کا یہ کارنامہ سوشل میڈیا اور مین میڈیا پر انتہائی سراہا جا رہا ہے، جہاں لوگ اسے حقیقی ہیرو قرار دے رہے ہیں۔ اس نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر آگ کے شعلوں میں چھلانگ لگائی اور ایک بچے کی زندگی بچانے میں کامیاب ہوئی۔ دوسری جانب، اس المیے کے بعد پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔ قومی اسمبلی کی ایک خصوصی کمیٹی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) یا متعلقہ ہسپتال میں لگنے والی آگ کی تحقیقات اور رپورٹ پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی واقعے میں مبینہ غفلت اور لاپرواہی برتنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام اور سویلین سوسائٹی کی طرف سے بھی ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر ایمرجنسی کے اقدامات کیے جاتے اور عملہ تربیت یافتہ ہوتا تو اتنے بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ حکومت نے واقعے کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔