Technology
لیپ 2026ء اور سعودی عرب میں اے آئی کا بنیادی ڈھانچہ
ریاض میں منعقدہ لیپ 2026ء ٹیک کانفرنس میں سعودی عرب کی ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کے حوالے سے اہم سنگِ میل عبور کیے گئے ہیں۔ اس تقریب کے دوران متعدد کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر شراکت داری، خودکار ٹرکوں اور مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
ریاض میں جاری دنیا کی معروف ٹیکنالوجی کانفرنس 'لیپ 2026ء' سعودی عرب میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہی ہے۔ اس باوقار ایونٹ کے دوران ملک کی معروف تکنیکی کمپنیوں اور اداروں کی جانب سے جدید ترین ڈیجیٹل حل اور وژنری منصوبے پیش کیے جا رہے ہیں جو مملکت کے معاشی تنوع اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔
کانفرنس کے آغاز پر ہی کئی بڑے منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے جن میں ہیومن (Humain) کی جانب سے میگا شراکت داریوں، خودکار ٹرکس اور مقامی ٹیلنٹ کی تیاری کے اقدامات نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ، سلام (Salam) نے اپنے بی ٹو بی 2.0 (B2B 2.0) پورٹ فولیو کا افتتاح کیا ہے، جو سعودی عرب کے ڈیجیٹل تبدیلی کے وسیع تر عزائم کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گا اور کاروباری اداروں کو جدید ترین مواصلاتی اور تکنیکی سہولیات فراہم کرے گا۔
لیپ 2026ء کے پلیٹ فارم پر سعودی آرامکو کے اعلیٰ حکام بشمول احمد او الخویشتر نے بھی اہم خیالات کا اظہار کیا ہے، جس سے توانائی اور صنعت کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے نفوذ کا اندازہ ہوتا ہے۔ وزارتِ اطلاعات کے نائب وزیر نے بھی وزارتِ داخلہ کے پویلین کا دورہ کیا، جو حکومتی سطح پر تکنیکی تعاون اور ڈیجیٹل انضمام کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔
یہ تمام پیش رفت اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی عرب ویژن 2030ء کے تحت اپنے آپ کو خطے کا سب سے بڑا ڈیجیٹل اور تکنیکی حب بنانے کے لیے تیزی سے گامزن ہے۔ ماہرین کے مطابق، لیپ 2026ء میں ہونے والے ان معاہدوں اور شراکت داریوں سے نہ صرف مقامی مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ نوجوان نسل کے لیے روزگار کے نئے اور جدید مواقع بھی پیدا ہوں گے۔