World
نیویارک ٹائمز اسکوائر چاقو حملہ، بینک آف امریکہ کی نائب صدر جاں بحق
نیویارک کے مصروف ترین ٹائمز اسکوائر میں ایک خاتون نے اندھا دھند چاقو کے وار کر کے بینک آف امریکہ کی ایک عہدیدار سمیت دو افراد کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور خاتون بھی ہلاک ہو گئی۔
نیویارک کے دنیا بھر میں مشہور اور سیاحوں سے بھرے ہوئے ٹائمز اسکوائر کے علاقے میں پیر کے روز پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں چاقو کے حملے کے نتیجے میں بینک آف امریکہ کی ایک نائب صدر سمیت دو افراد ہلاک ہو گئے۔ اس لرزہ خیز واقعے کے دوران حملہ آور خاتون نے دن دہاڑے راہگیروں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد موقع پر موجود پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو جوابی فائرنگ میں ہلاک کر دیا۔ واقعے کے بعد شہر میں سیکیورٹی اور ذہنی صحت کے مسائل پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ آور کی شناخت 49 سالہ پامیلا سسنیروس کے طور پر ہوئی ہے جو کوئینز کی رہائشی تھی اور مبینہ طور پر ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھی۔ اس نے ایک بیگ سے دو بڑے چاقو نکال کر ٹائمز اسکوائر کے مصروف چوراہے پر راہگیروں کو دھمکانا شروع کر دیا۔ اس نے سب سے پہلے 68 سالہ شخص کو پیٹ میں چاقو کے وار کر کے شدید زخمی کیا اور محض بیس سیکنڈز کے اندر ہی 32 سالہ خاتون ایرین پیاسینٹی کو بھی پیٹ میں چاقو گھونپ کر شدید زخمی کر دیا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل گئیں۔ مقتولہ ایرین پیاسینٹی معروف امریکی مالیاتی ادارے بینک آف امریکہ کے بزنس سلیکشن اینڈ کانفلکٹس یونٹ کی نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ بینک انتظامیہ نے اپنے ایک بیان میں اس اندوہناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی ہونہار اور قابل ساتھی کی اچانک موت پر صدمے میں ہیں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ پولیس کمشنر جیسیکا ٹش نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے حملہ آور کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کے لیے لگ بھگ چار منٹ تک بات چیت کی اور بارہا اسے چاقو زمین پر رکھنے کا حکم دیا لیکن اس نے حکم عدولی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہتھیار نہیں ڈالے گی اور دونوں پولیس اہلکاروں کو مار دے گی۔ پولیس نے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پہلے ٹیزر گن کا استعمال کیا جو ناکام رہا، جس کے بعد پولیس کو مجبوراََ گولی چلانا پڑی۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس حملے کا تعلق کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذہنی توازن سے عاری فرد کا انفرادی فعل معلوم ہوتا ہے۔ ٹائمز اسکوائر جیسا انتہائی مصروف علاقہ، جہاں ہر وقت ہزاروں کی تعداد میں سیاح، مسافر اور مقامی شہری موجود ہوتے ہیں، اس واقعے کے بعد کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس کی لپیٹ میں آ گیا لیکن پولیس کی فوری کارروائی نے مزید بڑے نقصان کو ٹال دیا۔