LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی کا روس پر ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کا الزام اور پابندیوں کا اعلان

News Image
جرمنی نے گزشتہ ماہ ایک اہم ہوائی اڈے پر بارودی مواد سے لیس ڈرون حملے کا ذمہ دار روس کو ٹھہراتے ہوئے سفارتی جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ یورپی یونین اور نیٹو نے جرمنی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے روس کے خلاف سخت مؤقف اپنایا ہے۔
برلن: جرمنی نے گزشتہ ماہ ایک اہم ہوائی اڈے پر پیش آنے والے دھماکہ خیز مواد سے لیس ڈرون حملے کا براہ راست الزام روس پر عائد کر دیا ہے اور اس ہائبرڈ کارروائی کے جواب میں کئی سخت سفارتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈپھول نے منگل کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ برلن حکومت بون میں واقع روسی قونصل خانے کو بند کر رہی ہے اور برلن میں روسی ثقافتی مرکز 'روسی ہاؤس' کا معاہدہ بھی منسوخ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ روسی شہریوں کے لیے ویزا اور داخلے کے کنٹرول کو بھی مزید سخت کیا جا رہا ہے جبکہ یورپی یونین کی سطح پر مزید روسی شخصیات پر پابندیوں کی تجویز بھی دی جائے گی۔ جرمنی کے وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرینڈٹ نے انٹیلی جنس رپورٹس اور ڈرون ٹیکنالوجی کے تفصیلی تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی کہ حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ چار اگست کو لیپزگ ایئرپورٹ پر ہونے والے ہائبرڈ حملے کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی میں نچلی سطح کے ایجنٹوں کا استعمال کیا گیا، جبکہ ڈرون کے پرزہ جات، دھماکہ خیز مواد اور اگنائشن کے طریقے وہی ہیں جو یوکرین کے خلاف جنگ اور دیگر کارروائیوں میں روس استعمال کرتا رہا ہے۔ جرمن حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کو الگ تھلگ نہیں دیکھ رہے بلکہ یہ روس کی طرف سے مسلسل کی جانے والی ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔ اس واقعے کے بعد یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے جرمنی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے، جبکہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے بھی واضح کیا کہ اتحادی ممالک کسی بھی خطرے کے خلاف اپنے دفاع کی صلاحیت کو مزید مضبوط کریں گے۔ برطانیہ، ایسٹونیا اور پولینڈ سمیت دیگر اتحادی ممالک نے بھی جرمنی کے اس اقدام کی بھرپور تائید کی ہے۔ جرمن حکام کا کہنا ہے کہ لیپزگ ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والے ڈرون پر موجود دھماکہ خیز مواد کو پولیس نے بم ڈسپوزل روبوٹ کی مدد سے ناکارہ بنایا تھا، اور اس ایئرپورٹ کی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر یہ حملہ ایک انتہائی خطرناک وارننگ ہے۔ چانسلر فریڈرک مرز نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ جرمنی ہائبرڈ حملہ آوروں کے نشانے پر ہے اور اس کے ذمہ داروں کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ سیکیورٹی ماہرین طویل عرصے سے برلن کے روسی ہاؤس کو جاسوسی کا اڈہ اور پروپیگنڈا کا مرکز قرار دیتے رہے ہیں، جہاں ایک سو سے زائد افراد مقیم تھے۔ جرمن حکومت اب اس شبے میں مزید سخت قدم اٹھا رہی ہے کہ روس اس طرح کے ہائبرڈ ہتھکنڈوں کے ذریعے مغربی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور جرمنی نے اپنے دفاع کے لیے دباؤ مزید بڑھانے کا تہیہ کر لیا ہے۔